نوائے ادب

محفوظہ برائے January, 2008

اب بھی ایسے لوگ ہیں ؟

مصنف : phototech81 :: بتاریخ 22 Jan 2008

میں روز کی طرح آفس سے نکل کر گھر واپس جا رہا تھا راستے میں مجھے پہلے تو راجہ بازار تک  سزوکی پر اور اس کے باد چینگ چی پر بیٹھ کر جانا پڑتا ہے راستے میں میں اکثر اکیلا نہیں‌ ہوتا مطلب میں‌ کچھ نا کچھ سوچتا رہتا ہوں‌اپنے ماضی اور مستقبل کے بارے میں‌اس دن بھی کچھ ایسا ہی ہوا میں‌اپنے آفس سے نکلا اور سزوکی پر بیٹھا مختلف ذہنیت کے لوگ وہاں ہوتے ہیں اس لے کوئی نا کوئی بت نکل ہی جاتی ہے جو مجھے سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں‌اس دن میرے سامنے ایک بزرگ بیٹھے ہوئے تھے جن کے ہاتھ میں ٹوپیاں تھی سر پر رکھنے کے لیے جو آپ تور پر مسجدوں میں‌ہوتی ہے جو کچھور کے پتوں‌سے بنتی ہے میں نے ان بابا جی کو غور سے دیکھا وہ بہت ہی بوڑھے تھے اور ان کی حالت بھی بہت خراب تھی یعنی کپڑے پھٹے پورانے تھے اور شکل سے بھی وہ بہت اداس لگ رہے تھے میں‌نے ان سے بات کرنا شروع کر دی بابا جی آپ کہا سے آتے ہیں کہنے لگے میں‌ پیرودائی سے آتا ہوں میں نے پوچھا بابا جی یہ جو ٹوپیاں آپ لے کر جا رہے ہیں‌یہ کس لے ہیں‌ کہنے لگے میں‌یہ فروخت کرنے کے لیے لے کر گیا تھا اب واپس جا رہا ہوں‌ اپنے ڈیرے پر ۔ شکل سے تو بابا جی سرحد سائیڈ کے لگتے تھے لیکن بات کرنے کے انداز سے مجھے وہ ہری پور کے لگے بعد میں‌پوچھنے پر انھوں نے ہری پور کا ہی بتایا باتے ہوتی رہی۔ میں‌نے پوچھا بابا جی یہ ایک ٹوپی آپ کو کتنے کی ملتی ہے کہنے لگے چار روپے کی ایک ٹوپی ہے میں‌ہر روز دو سو ٹوپیاں لے کر جاتا ہوں بیچنے کے لیے مختلف علاوہ میں کبھی سو ٹوپیاں بگتی ہیں‌اور کبھی ایک سو پچاس اور کبھی کبھی دوسو اور کبھی تو ایک بھی نہیں ۔میں‌ نے کہا آپ کو کیا فائدہ ہوتا ہے۔ کہنے لگے ایک ٹوپی کے پیچھے ایک روپیہ ملتا ہے۔میں‌بہت حیران ہوا ۔پھر پوچھا کیا آپ کا گزارا ہو جاتا ہے ۔تو کہنے لگے دینے والا تو اوپر بیٹھا ہے وہ سب کچھ کر دیتا ہے مجھے کوئی پرشانی نہیں‌ہوتی
میں‌نے سوچھا کیا ایسے بھی لوگ ہیں ابھی جو صبر و شکر سے کام لتے ہیں اسی دوران میرا سٹاپ آ گیا میں نے اور بابا جی نے اسی سٹاپ پر اوترنا تھا وہ بھی میرے ساتھ اوتر گے میرے پاس اس وقت دو سو رپیے تھے میں نے ان میں سے ایک سو کا نوٹ نکالا ان کو دینے کے لیے ۔جب میں‌نے ان کی طرف ہاتھ کیا تو انھوں نے پیسے لینے سے انکار کر دیا میں‌نے بہت کوشش کی کے وہ پیسے لے لے لیکن انھوں نے نہیں‌لے صرف یہ کہہ کر ، جب تک میرے جسم میں‌ایک بھی خون کا قطرہ ہے میں‌اس وقت تک محنت کرتا رہوں گا ایسے پیسے جن میں میری کوئی محنت نہیں‌ہے مجھ پر حرام ہے اور چلے گے
میں‌بعد میں‌سوچتا رہا کیا اب بھی ایسے لوگ ہیں

تحریر خرم شہزاد خرم

زمرہ : Uncategorized | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »

دوستوں کے درمیاں (میرے دوستوں کی باتیں) ۔۔

مصنف : phototech81 :: بتاریخ 21 Jan 2008

khu-khu.jpgمیں سمجھتا ہوں دنیا میں سب سے غریب وہ انسان ہے جس کا کوئی دوست نہیں اللہ تعالٰ جان جی کا کرم ہے مجھے پر جس کے بہت اچھے اور پیارے دوست ہیں ویسے تو میرے دوست بہت سارے ہیں جو نیٹ پر بھی ہیں اور عام زندگی میں بھی لیکن میں یہاں صرف ان دوستوں کی باتیں لکھوں گا جو عام زندگی میں میرے ساتھ ہیں میرے دوستوں کے نام

(میرے محلے کے دوست جن سے میری زیادہ ملاقات رہتی ہیں)

اسد نواز
نوید مغل
تنویر خالد
شیعب مرزا
عرفان
ظفر اوپل
شوکت
وقاص

میرے کلاس کے دوست جن سے اب میری ملاقات نا ہونے کے برابر ہے

واجد محمود
واجد حسین شاہ ہمدانی
منیر احمد
خلیل احمد
آفتاب

میرے کالج کے دوست جو مجھ سے بہت دور ہو گے لیکن اس کے باوجود میرے پاس ہے

محمد فیاض
محمد وقاص
محمد عمار

میرے نیٹ کے دوست تو بہت سارے ہیں کن کن کا نام لکھوں خیر ان سب کے لیے میں ایک نیا سیکشن بناوں کو تو پھر آپ سب کو بتاوں گا

اب میں ان کا تھوڑا تھوڑا تعارف کرواتا ہوں اور یہ بھی بتاتا ہوں ان سے میری دوستی کیسے ہوئی اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی زات کے مطابق جو میں جانتا ہوں وہ  الفاظ بھی لکھتا جاوں گا تو سب سے پہلے آتے ہیں اسد کی طرف

اسد نواز

asad-khuram-2.jpg

asad-khurram.jpgasad-1.jpgasad-2.jpg

 

اسد نواز میرا سب سے پیارا اور سب سے پہلا دوست ہے اس سے میری پہلی ملاقات تو پتہ نہیں‌کب اور کیسے ہوئی لیکن اتنا یاد ہے کے اس سے دوست کرکٹ کھیلتے ہوے ہوئی اسد کرکٹ کا بہت اچھا کھلاڑی رہا ہے لیکن اب کم کم کھلتا ہے ہم ایک ساتھ میچ کھلا کرتے تھے یہ میری مخالف ٹیم میں تھا ایک دن اس کو اپنی ٹیم میں کھلنے کی دعوت دی جو اس نے قبول کر لی اور اس کے بعد آستہ آستہ اس سے دوستی ہو گی جو کے اللہ کے کرم سے اب تک جاری ہے لیکن اس کو ہمشہ مجھ سے شکایت ہی رہتی ہے کہتا ہے وقت آنے پر بتاوں گا پتہ نہیں اس کا وقت کب آئے گا

اس کے بارے میں ایک بات مشہور ہے ہم دوستوں میں وہ یہ کہ
مجھ سے ہار برداشت نہیں ہوتی
ہا ہاہا ہم اس کو اس بات سے بہت تنگ کرتے ہیں
اپنے گھر والوں اور اپنے کام کے لیے بہت ہی سنجیدہ ہے اور ہر وقت اپنے گھر والوں اور کام کے لیے پرشان رہتا ہے

نوید مغل

khuram-naveed.jpg

ویسے تو نوید مغل سے میری ملاقات سکول دور میں ہی تھی لیکن اس وقت ہم میں‌کوئی اتنی بے تکلفی نہیں تھی اس سے بھی کہہ سکتے ہیں دوستی کرکٹ کی وجہ سےہوئی لیکن خاص وجہ اسد ہی ہے اگر یہ کہا جائے کے ان س دوستوں سے میری دوستی اسد کی وجہ سے ہوئی ہے تو اس میں کوئی ہرج نہیں‌کیوں کے اسد ، نوید ، تنویر  ، ظفر  ، شعیب  ، یہ اکثر ایک ساتھ ہی ہوتے تھے اور تقریباََ شام کو سب ایک جگہ پر جمع ہو کر ایک دوسرے سے گپ شپ کرتے تھے خیر بات کسی اور طرف جا رہی ہے اس لے مضوع کی طرف آتے ہیں تو مضوع تھا نوید ویسے تو نوید شکل سے بہت ہی معصوم اور شریف لگتا ہے لیکن اس کی شکل پر نا جائے گا یہ بہت ہی تیز اور شاتر ہے  ہر دوست کو مکمل وقت دیتا ہے اس کے دوستوں کی تعداد بتانا ناممکن اگر نہیں ہے تو مشکل ضرور ہے گھر میں سب سے بڑا ہے والد صاحب وفات پا گے ہیں ان کی وفات کے بعد گھر کا نظام اسی کی محنت سے چلتا ہے
اس کی زات کے مطابق یہ بات بتاوں گا
اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے مطلب جو کام کرنا ہے تو اس کو مکمل کرنا ہے چاہے جو کچھ بھی ہو جائے

تنویر خالد

asad-khuram-tanveer.jpg

 

 

 

تنویر خالد اس سے بھی دوستی اسد کی وجہ سے ہی ہوئی تنویر ہم سب سے سینیئر ہے عمر کے لحاظ سے نہیں تعلیم کے لحاظ سے نہیں بلکے شادی کے لحاظ سے :D  ہم دوستوں میں سب سے پہلے  ان کی ہی شادی ہوئی ہے سب دوستوں میں مقبول ہے اور سب ان کی بات کو غور سے سنتے ہیں ان کے بارے میں باقی تفصیل میں نوید سے پوچھ کر بتاوں گا
ان کی زات کے مطابق یہ بات کہوں گا
ہر کام کرنا ہے مگر نا مکمل :) وہ اس لے کے جب بھی کوئی کام شروع کرتے ہیں‌اس کو وہی پر چھوڑ کر دوسرا کام شروع کر دیتے ہیں اس کی صرف ایک مثال ہماری CCB (میسیچ) ہے جو قائم تو ہوگی لیکن اس کے بعد اگے نہیں چلی

شیعب مرزا

اس سے بھی دوستی اسد اور نوید کی وجہ سے ہوئی اس کے بارے میں میں کیا بات کروں کل جب میں نے تنویر کو بتایا تھا کہ میں اپنے بلاگ پر دوستوں کی باتے پوسٹ کرنے والا ہوں تو تنویر نے کہا کے اس کی ساری باتیں میں بتاوں گا وہ تو سب ٹھیک ہے لیکن جو مجھے پتہ ہے وہ کچھ اس طرح ہے اس کی زبانی اس کی زندگی میں دوست ہی سب کچھ ہیں یہ کہتا ہے کام کرنا جوان کی موت ہے اس لے کوئی بھی کام ٹھیک سے نہیں کرتا کبھی کوئی کام کبھی کوئی کام اس کی زات کے مطابق
یہ کہتا ہے میں چھ دن فارغ ہوتا ہوں اور ایک دن چھوٹی کرتا ہوں

عرفان

عرفان جب بھی کبھی ہم دوستوں میں سے کسی کی کلاس لی جائے تو عرفان میری طرف ہوا کرتا تھا۔ غور فرمائے تھا پر زور ہے ۔ مطلب یہ ہوا کے اب کم کم ہوتا ہے وہ اس لے ہم دونوں ایک طرف ہو جاتے تھے لیکن عرفان کی بدقسمتی یہ کہ میں ہفتے میں‌ایک یا دور بات ان سب سے ملتا تھا لیکن یہ باقی سب روز ملتے تھے اس لے پھر سب اس کی کلاس لگا دیتے تھے اور اس طرح میں بچ جاتا تھا۔ ویسے ایک بات ہے ہم سب دوستوں میں ایک بات ضرور ہے جیسے بھی ہو ایک دوسرے کا خیال ضرور رکھتے ہیں عرفان کے بارے میں زیادہ بات شعیب کی طرح بعد میں ہی ہو گی

ظفر

ہا ہا ہا اب میں اس کے بارے میں بات کروں یا ہنسوں کیوں کے ہم سب دوستوں میں سب سے زیادہ مزاق ظفر ہی کرتا ہے کوئی ایسا بندہ نہیں جس کی اس کے ساتھ مزاق نا ہو جب تک محفل میں ہوتا ہے کسی نا کسی کی نقل ہی اتارتا رہتا ہے آج کل کم ہی نظر آتا ہے اب پتہ نہیں کیوں اس پر بھی تفصیل سے بات ہو گی کیوں کہ ان کےکارنامے زیادہ ہیں

شوکت

شوکت سے دوستی خاص نوید کی وجہ سے ہوئی ہوا کچھ یوں تھا ایک دن نوید سے میری شاعری پر بات ہو رہی تھی (نوید کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اگر اس کو کسی چیز میں دلچسپی نا ہو تو بھی وہ دوسرے کی بات آرام سے سنتا ہے اور مزے کی بات یہ کے سوال بھی کرتا رہتا ہے جس سے بات کرنے والے کو یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ اس کو اس میں‌دلچسپی ہے یا نہیں)

زمرہ : Uncategorized | 2 تبصرے »

یہ ہے میرا پاکستان

مصنف : phototech81 :: بتاریخ 18 Jan 2008

کچھ سال پہلے میں‌نے یہ نغمہ سنا تو مجھےبہت اچھا لگا “ہے ہے میرا پاکستان ” کیسا پیارا ہے اس کے لوگ کتنے پیارے ہیں سب پیار کرنے والے ہیں لیکن آج کل جب مین یہ نغمہ سنو تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ نغمہ ہی مجھ سے عجیب انداز میں پوچھ رہا ہو ۔”یہ ہے میرا پاکستان؟” جس میں‌اپنا کلچر ہی نہیں رہا اپنی زبان ہی نہیں رہی جہاں دیکھے ہمسایہ ملک کے انداز اپنائے جا رہے ہیں اب تو مجھے ایسا لگتا ہے پاکستان مین کوئی بھی پاکستانی نہیں ہے ہاں البتہ  پنجابی ، سندھی ، بلوچی ، بٹھان اور کشمیری بہت ہیں اور یہاں مجھے کوئی مسلمان بھی نظر نہیں‌آتا  سُنی ،شیہ ۔ وہابی، دیوبندی ، وغیرا وغیرا ہیں میں کہنی دن سے دیکھ رہا ہوں ہمارے ہاں کچھ بھی ہمارا نہیں رہا ہے کسی زمانے میں پاکستان کا کلچر ہوتا تھا میں نے اپنے بڑوں سے سنا ہے کہ پاکستان کا کلچر ہوتا تھا لیکن اب میں دیکھتا ہوں کہ ملک تو پاکستان کا ہے لیکن کلچر انڈیا کا رہتے تو پاکستان میں ہے زبان بھارت کی بولتے ہیں بچے بچے کے منہ پہ بھارت کے گانے ہیں ان کی طرح کا لباس زیب تن ہے اور یہاں مجھے شکوہ میڈیا سے بھی ہے جو  پاکستان کے کلچر کی جگہ ہندستان کے کلچر کو زیادہ دیکھاتے ہیں اس کے علاوہ ہمارے ہاں سٹار پلس کو بہت شوق سے دیکھا جاتا ہے ہر گھر میں تقریباََ۔ چاہے اس میں کچھ کام کی چیز ہو یا نا ہوں میں یہ سوچتا ہوں کہ ہم رہتے پاکستان مین ہیں جاب پاکستان میں کرتے ہیں کھاتے پاکستان میں ہیں لیکن کلچر ہم بھارت کا اپناتے ہیں‌کیوں ایسا کیوں ہے کیا ہمارا کلچر ان کے کلچر سے اچھا نہیں ہیں۔ کیوں نہیں ہے ان سے بہت بہتر ہے میں‌نے ایک پاکستانی سے پوچھا آپ مجھے یہ بتاوں پاکستان میں‌رہتے ہوئے بھی آپ انڈین کلچر کو کیوں اپناتے ہو ،اور ان کے ہی پروگرام کیوں دیکھتے ہو اس کی کیا وجہ ہے کیا پاکستان کا کلچر ان سے بہتر نہیں ہے کیا پاکستان کے پروگرام ان سے بہتر نہیں ہیں تو انہوں نے جواب دیا کلچر کیا ہوتا ہے؟ ہم پاکستان کے ہی کلچر میں تو اپنی زندگی گزرا رہے ہیں۔ اس سے پتہ چلا کے ہمارے ٹی وی چینل بھی تو پاکستانی کلچر نہیں‌دیکھاتے ۔ آج کے دور میں‌ٹی وی چینل واحد راستہ ہے جس کے استعمال سے ہم اپنے کلچر کو ساری دنیا کے سامنے پیش کر سکتے ہیں ہم کو خود ہی کچھ کرنا ہوگا  اگر اسی طرح بھارتی کلچر ہمارے کلچر میں شامل ہو گیا تو ہم اپنی پیچھان کھو بیٹھے گے جیسے میرا ضمیر مجھ سے پوچھتا ہے “یہ ہے میرا پاکستان” جب یہ آپ سب سے پوچھے گا تو آپ کیا جواب دو گے کچھ بھی نہیں میری طرح سوچتے ہی رہو گے۔

تحریر خرم شہزاد خرم

زمرہ : Uncategorized | 4 تبصرے »

فقط پہلی ہی فرصت میں

مصنف : phototech81 :: بتاریخ 16 Jan 2008

فقط پہلی ہی فرصت میں

یقین جانو
یہی ایک کام کرنا ہے
محبت زندگی اور دل
تمہارے نام کرنا ہے
فقط پہلی ہی فرصت میں

زمرہ : Uncategorized | 3 تبصرے »

اسے کہنا

مصنف : phototech81 :: بتاریخ 16 Jan 2008

اسے کہنا
اسے ہم یاد کرتے ہیں
دیے جب شام کی دہلیس پر جلنے کو آتے ہیں
ستارے آسماں پر ٹم ٹماتے ہیں
اور پچھلے پہر چاندنی پھولوں پہ شبنم اترتی ہے
بہت ہی خوب لگتی ہے
ہم اس دم اپنی آنکھوں
میں تمہیں آباد کرتے ہیں
اسے کہنا
اسے ہم یاد کرتے ہیں
اندھری رات میں پیارے
سحر ہونے سے کچھ پہلے
اچانک نیند سے اٹھ کر
ہم اپنے رب تعالٰی سے
تمہارے واسطے فریاد کرتے ہیں
اسے کہنا اسے ہم یاد کرتے ہیں

خرم شہزاد خرم

زمرہ : Uncategorized | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »

ڈلی ہے شام تو سورج اتر گیا ہو گا

مصنف : phototech81 :: بتاریخ 16 Jan 2008

ڈلی ہے شام تو سورج اتر گیا ہو گا

تمہارے یاد میں کوئی بکھر گیا ہو گا

ہمارے بعد ہماری تلاش کیا کرنا

 بس اتنا سوچ مسافر گزر گیا ہو گا

خرم شہزاد خرم 

زمرہ : Uncategorized | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »

اثر کرتا نہیں شکوہ شکایت بھی پرانی ہے

مصنف : phototech81 :: بتاریخ 16 Jan 2008

اثر کرتا نہیں شکوہ شکایت بھی پرانی ہے
مجھے احساس ہے اس کی یہ عادت بھی پرانی ہے

کوئی رستہ نہیں اس بن جو مجھ کو زندگی دے دے
بہت ہی دور ہے منزل مسافت بھی پرانی ہے

اسے دیکھے بنا آنکھیں برستی ہیں نہ ہنستی ہیں
جدائی بھی نہیں کٹتی اذیت بھی پرانی ہے

یہ تنہا چاند راتوں میں تمہاری یاد کا آنا
یہی تیر محبت ہے محبت بھی پرانی ہے

تری یادیں تری باتیں تری ہر چیز سے جاناں
مجھے بے حد عقیدت ہے عقیدت بھی پرانی ہے

تمہی آنکھوں میں ہو میرے تمہیں دل میں بسایا ہے
تمہی کو چاہتے ہیں اور چاہت بھی پرانی ہے

ترے بن سانس کانٹے اور دھرکن درد کی دستک
گزرتی ہی نہیں خرم قیامت بھی پرانی ہے

زمرہ : Uncategorized | 2 تبصرے »