نوائے ادب

قومی اخبار کے صحافی انجم شاہ پر حملہ

مصنف : phototech81 :: بتاریخ 29 May 2009

 سیالکوٹ(بیورورپورٹ) سب انسپکٹر کے بیٹے کا شراب کے نشہ میں دھت ساتھیوں کے ہمراہ قومی اخبار کے بیورو آفس پر حملہ
توڑ پھوڑ،فحش گالیاں،صحافی پر تشدد ،کپڑے پھاڑ دیئے،لوگوں نے جان بخشی کروائی،اطلاع ملنے پر سب انسپکٹر کی دفتر آکر معذرت ،باپ کو کیوں بتایا شرابی بیٹے کا دفتر پر پھر حملہ،پولیس کے آنے سے قبل ملزم سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتا ہوا فرار،صحافیوں کا احتجاج ملزمان کے خلاف کاروائی کا مطالبہ

 تفصیلات کے مطابق سیالکوٹ لالہ زار چوک میں واقع قومی اخبار کے دفتر پر سید انجم شاہ خبریں لکھ رہے تھے کہ سیالکوٹ میں تعینات سب انسپکٹر اعجاز باجوہ کا بیٹا بابر اعجاز باجوہ شراب کہ نشہ میں دھت ہو کر چار مسلح ساتھیوں کے ہمرا آیا اور صحافی کو زبردستی اٹھا کر ٹیبل پر ٹانگیں رکھ کر بیٹھ گیا جس پر اسے منع کیا گیا تو اس نے‌غلیظ زبان کا آزادانہ استعمال کرتے ہوئے فحش گالیوں کی بوچھاڑ کر دی اور سامانا ٹھا کر پھینکنا چاہا تو صحافی نے اسے منع کیا تو شرابی

 تفصیلات کے مطابق سیالکوٹ لالہ زار چوک میں واقع قومی اخبار کے دفتر پر سید انجم شاہ خبریں لکھ رہے تھے کہ سیالکوٹ میں تعینات سب انسپکٹر اعجاز باجوہ کا بیٹا بابر اعجاز باجوہ شراب کہ نشہ میں دھت ہو کر چار مسلح ساتھیوں کے ہمرا آیا اور صحافی کو زبردستی اٹھا کر ٹیبل پر ٹانگیں رکھ کر بیٹھ گیا جس پر اسے منع کیا گیا تو اس نے‌غلیظ زبان کا آزادانہ استعمال کرتے ہوئے فحش گالیوں کی بوچھاڑ کر دی اور سامانا ٹھا کر پھینکنا چاہا تو صحافی نے اسے منع کیا تو شرابی بابر باجوہ نے صحافی کو پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور سنگین نتائج کی د

 میرا باپ پولیس افسر ہے کسی بھی جھوٹےمقدمہ میں پھنسوا دوں گا  شدید غنڈہ گردی اور چیخ و پکار کی آوازیں سن کر قریبی دوکاندار نے‌صحافی کی جان بخشی کروائی

 واقع کی اطلاع ملنے پرسب انسپکٹر اعجاز باجوہ نے دفتر آ کر صحافی سے معذرت کی اور یقین دہانی کرائی کہ آئندہ اسکے بیٹے سے ایسی غلطی سرزد نہ ہوگی
اعجاز باجوہ کے جانے کر بعد شرابی بیٹا بابر اعجاز باجوہ مستعل ہو کر واپس آیا کہ میرے باپ کو کس نے اطلاع کی کس میں اتنی ہمت ہے جو میرے باپ کو میرے کرتوت بتا سکے

 شراب کے نشہ مین دھت بابر باجوہ بڑھکیں مارتا رہا کہ تم کو گولی مار دوں گا پھر خبریں لگانا اور صحافی سید انجم شاہ کو مارنا شروع کر دیا

 جس پر انہوں نے بھاگ کر اپنی جان بچائی اور فوری ریسکیو ون فائیو کو اطلاع دی پولیس کے آنے سے قبل ملزم سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتا ہوا فرار ہو گیا حملہ کی اطلاع ملنے پر صحافیوں کی ایک کثیر تعداد دفتر پہنچی بعد ازاں صحافیوں نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سیالکوٹ وقاف احمد چوہان کو ملزمان کے خلاف کاروائی کےلئے درخواست دے دی جس پر ڈی پہ او نے DSPسٹی محمد نواز کی انکوئری افسر مقرر کرتے ہوئے واقع کی تفصیلی رپورٹ سات دن کے اندر طلب کر لی

زمرہ : Uncategorized | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »

اے وطن اب اجازت ملے گی مجھے

مصنف : phototech81 :: بتاریخ 18 Mar 2009

اے وطن اب اجازت ملے گی مجھے
چھوڑ کر شہر اپنا سفر کر چلوں

دل دھڑکتا رہے آنکھ روتی رہے
میں خموشی سے اپنے نئے گھر چلوں

دن بہت کم ہے کسی بھی نئی جگہ جانا انسان کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔ اور اگر نئی جگہ اپنے وطن سے بھی دور ہو تو پھر بہت ہی مشکل ہوتا ہے ۔ آج کل میں بہت اداس ہوں نجانے کیوں ایسے حالات پیدا ہو گے کہ مجھے پاکستان سے جانا پڑ گیا سب تسلی تو دے رہے ہیں کہ اپنے مستقبل کے لیے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے لیکن کوئی یہ نہیں بتا رہا کہ میرا مستقبل کتناہے میں کب تک زندہ رہوں گا۔ خیر اپریل کی پہلی یا دوسری تاریخ کو میں پاکستان کو چھوڑ کا ابوظہبی جا رہا ہوں جہاں زینب آپی اور سلیمان جاذب رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ کون رہتا ہے یہ نہیں جانتا۔ میں وہاں جا کر آپ سب سے رابطہ رکھنے کی کوشش کروں گا اگر تو نیٹ کی سہولت ہوئی تو پھر بہت اچھا ہو گا اور اگر سہولت نا ہوئی تو پھر کبھی کبھی آپ سے رابطہ ہوا کریں گا آپ سب کے ساتھ میرا بہت اچھا وقت گزرا میں سے سے درخواست کرتا ہوں اتنے عرصے میں اگر مجھ سے کوئی غلطی ہو گی ہو ۔ کوئی غلطی کیا غلطیاں ہوئی ہونگی سب سے درخواست کرتا ہوں مجھے معاف کر دیجئے گا اور میرے لیے دعا کیجئے گا یہاں مجھے بہت محبت ، پیاری اور اچھے دوست اور استاد ملے جن کی مدد سے میں خود کو انسان بنانے کی کوشش میں لگ گیا ۔
میں نے لکھنا کچھ تھا اور لکھ کچھ گیا ہوں ۔ مجھ سے کچھ لکھنے نہیں ہو رہا
اللہ حافظ
خرم شہزاد خرم

زمرہ : Uncategorized | 3 تبصرے »

ہماری نصحت بے اثر کیوں؟؟؟

مصنف : phototech81 :: بتاریخ 07 Aug 2008

ہماری نصحت بے اثر کیوں؟؟؟ 

 

 ہم ہر وہ کام خود کرتے ہیں جو کسی کو کرنے سے روکتے ہیں۔ آج صبح جب میں آفس آنے کے لیے گاڑی میں بیٹھا اس گاڑی کا کنڈیٹر نہیں تھا اس لے ڈریور صاحب نے خود کرایہ لیا اور کہنے لگے بھائی شیشے پر کوئی بھی ہاتھ نا مارے جس نے جہاں اترنا ہوا وہ گھنٹی بجا دے میں گاڑی روک دوں گا ۔ اس کے بعد گاڑی اپنی منزل کی طرف سفر کرنے لگی ابھی ہم کچیری تک ہی پونچے تھے کے ڈریور نے خود شیشے پر دستک دی اور اشارے سے پوچھنے لگا کیچری کوئی اترے گا تو نہیں۔ اس کی اس حرکت سے میرے زہین میں سوال پیدا ہوا کہ ہماری نصحتوں میں اثر کیوں نہیں ہوتا؟ پھر خود ہی میں نے اس کا جواب دیا ۔ جو کام ہم خود کرتیں ہیں وہی کام دوسروں کو کرنے سے روکتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہماری نصحتوں میں اثر نہیں ہوتا ۔ ہمارے بزرگ ہمیں سگریٹ پینے سے منع فرماتیں ہیں اور پھر خود ہی اپنے لیے ہم سے سگریٹ مگواتے ہیں۔ ہمارے سامنے سگریٹ پیتے ہیں ۔پھر ہم پر ان کی اس بات کا اثر کیوں ہو گا ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے ایک دفعہ ہم نے ایک مذہبی ریلی نکالنے کا پروگرام بنایا۔ ہم نے لوگوں کو دعوت دینا شروع کی ۔ دعوت پھیلتی پھیلتی علاقے کے ایک مولانا صاحب کے پاس گی تو انھوں نے ہمیں ملاقات کی دعوت دی ۔ ہم سب لڑکے ان کے پاس چلے گے ۔ وہ ہمارے ساتھ بہت پیار سے پیش آئے اور پھر گفتگو کا آغاز کیا۔” دیکھا بیٹا آپ کا اور میرا مقصد ایک ہی ہے جس مقصد کے لیے آپ ریلی نکال رہے ہو اسی مقصد کے لیے میں ہر سال ریلی نکالتا ہوں تو کیا ہی اچھا ہو اگر ہم سب مل کر ایک ہی ریلی نکال لے میں ریلی اپنی مسجد سے شروع کرؤں گا اور پھر آپ کی مسجد کے پاس آؤں گا اور پھر اسی طرح علاقے کی تمام مساجد میں جائے گے آپ کیا کہتے ہیں“ ہمیں بہت خوشی ہوئی اور ہم نے فوراََ ان کی بات مان لی اور اپنی مسجد کے مولانا صاحب کے پاس آئے اور ان ساری بات بتا دی اس پر ہمارے مولانا صاحب سخت غصے میں آئے اور کہنے لگے ” بیٹا تم لوگ ابھی چھوٹے ہو تمہیں دین کے بارے میں اتنا پتہ نہیں ہے وہ مولانا صاحب اپنے نام کی خاطر ریلی نکالتے ہیں اور اس بار بھی ان کا مقصد یہی ہے وہ چاہتے ہیں میری ریلی میں زیادہ سے زیادہ لوگ ہو وہ آپ کو استعمال کرنا چاہتے ہیں“ ہم سب حیران ہو گے کے ایک مولانا کی بات پر دوسرے مولانا صاحب کیتنے غصے میں آ گے ہیں خیر ہم پھر پہلے مولانا صاحب کے پاس گے اور انکار کر کے واپس آگے۔ پھر ہمیں اگلے دن اصل بات پتہ چلی کے دونوں مولانا صاحب کی آپس میں نہیں بنتی تھی اسی لے وہ ایک دوسری کے ریلی ، جلسے ، جلوس اور محافل میں شرکت نہیں کرتے تھے۔ میں نے سوچا یہ وہی مولانا صاحب ہے جو جمعہ والے دن پورا ایک گھنٹہ ہمیں لیکچر دیتے ہیں غیبت کرنا ایسا ہے جیسا اپنے مرے بھائی کا گوست کھانا ہے کسی سے حسد نا کرو ہمیشہ دوسرے کی مدد کرو اور یہی مولانا صاحب خود دوسرے مولانا صاحب سے حسد کرتے ہیں ان کی غیبت کرتے ہیں۔ پھر ہم پر ان کی بات کا اثر کیسے ہو گا اس بات کا خیال رکھے جب بھی کسی کو کوئی نصحت کرے تو کوشش کیا کرے کم از کم اس کے سامنے وہ کام نا کیا کرے تانکہ ہماری نصحتوں میں اثر ہو خرم شہزاد خرم

زمرہ : Uncategorized | 4 تبصرے »

پاکستان ؟؟؟

مصنف : phototech81 :: بتاریخ 30 Jul 2008

جب میں اپنے کمرے سے باہر نکلا تو اپنے گھر کو دیکھ کر ہی بہت پرشان ہو گیا صبح، صبح اتنی صفائی۔ ہر چیز ترتیب سے رکھی ہوئی سب کھانے کے لیے تیار بیٹھے تھے ایسا لگ رہا تھا میرا ہی انتظار کر رہیں ہوں مجھے دیکھتے ہی سب نے مسکرا کر مجھے خوش آمدید کیا۔ میں‌ان کو دیکھ کر شرمندہ سا ہو گیا بھاگتا ہوا غسل خانے میں گیا اور جلدی سے تیار ہو کر کھانے کی ٹیبل پر آ گیا۔سب بہت پُر سکون ناشتہ کر رہے تھے یہ سب دیکھ کر میں بہت حیران ہو رہا تھا ہمارے ہاں کبھی ایسا نہیں ہوا کبھی بھی سب نے مل کر ناشتہ نہیں کیا یہ آج کیا انقلاب آ گیا ہے۔ میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ ابو جی ناشتہ ختم کر کے آفس جانے لگے اور سب کو سلام کیا ۔ خیر صبح اکثر میں ابوجی سے ملاقات ہوا کرتی تھی کیوں کے میں اور ابو جی ہی آفس جاتے تھے اس لے صبح جلدی ہی اٹھتے تھے لیکن آج سب مجھ سے بھی پہلے اٹھے ہوئے تھے میں نے بھی ابو جی کو سلام کیا اور آفس کے لیے تیار ہونے لگا جس کی طرف دیکھتا وہ مسکرا کر بات کرتا اللہ اللہ یہ کیا ہوگیا ہے ہمارے گھر کو یہ کیا انقلاب ہے۔ آفس سے باہر نکلتے وقت ماں جی کو خدا خافظ کہنے لگا ہی تھا کے سب گھر والوں نے مجھے پہلے ہی خدا خافظ کہہ دیا ۔ جہاں سب اتنے دیر سے جاگتے تھے آج وہاں سب مجھ سے پہلے جاگے ہوئے تھے۔ یہ سب مجھے حیران کرنے کے لیے کافی نا تھا جب میں گھر سے باہر نکلا گلی میں قدم ہی رکھا تھا کہ آنکھں نکل کر باہر آنے لگی دور دور تک جتنے بھی مجھے مکان نظر آ رہے تھے سب کے سب بہت خوبصورت لگ رہے تھے ساری گلیاں صاف تھی۔ میں راستے میں جو بھی مجھے ملتا مسکرا کر السلام علیکم کہتا اور آگے نکل جاتا مجھے خوشی بھی ہو رہی تھی لیکن خوشی سے زیادہ حیرت ہو رہی تھی یہاں تو سب اپنے کام سے کام رکھتے ہیں راستے میں‌کیا ہو رہا ہے کوئی زندہ ہے یا مر گیا ہے کسی کو اس کا احساس ہی نہیں ہوتا تھا لیکن یہ آج کیا ہو رہا ہے ۔ چلتے چلتے جب میں بس سٹاپ کے پاس پونچا تا ایک بار پھر حیرت کا ایک طوفان میری طرف آیا میں نے خود کو قابوں میں کیا اور کیا دیکھتا ہوں بس سٹاپ ایسے نظر آ رہا تھا جیسے کوئی پارک ہو بٹھنے کے لیے کرسیاں لگی ہوئی سب لوگ بہت آرام سے بس کا انتظار کر رہے تھے بہت اخترام سے گفتگو کا سلسلہ چل رہا تھا کہ اتنے میں ایک خاتوں بس سٹاپ کی طرف آئی میں نے دیکھا کوئی کرسی خالی نہیں تھی وہاں سے ایک نوجوان اٹھا اور ان کو بیٹھنے کی جگہ دی یہ سب کچھ دیکھ کر میں پرشان ہو ہی رہا تھا کہ اتنے میں بس آ گی۔ جب بس سٹاپ پر آ کے رکی پہلے مسافر قطار بناکر اترے اور پھر جو مسافر انتظار کر رہے تھے وہ سب بھی قطار بنا کر کھڑے ہو گے سب سے پہلے خواتین بس میں سوار ہوئی اس کے بعد باقی مسافر بس میں سوار ہونے لگے میں سب کو خیرت سے دیکھتا رہا جب سب مسافر بس میں سوار ہو گے تو اور بس چلے لگی تب مجھے یاد آیا میں نے بھی اسی بس میں جانا ہے اتنے میں بس کا دروازہ بند ہو گیا لیکن میں بھاگ کر لٹکنے کے لیے بس کے دروازے کو ہاتھ ہی رکھا تھا کے بس کی رفتار تیز ہو گی اور میں پیچھ زمیں پر گیرگیا اور بے ہوش ہو گیا  جب ہوش آئی تو کیا دیکھتا ہوں میں اپنی چارپائی سے نیچے زمیں پر گیرا ہوا ہوں صبح کے 7 بج رہے ہیں سارے کمرے کی چیزیں بے ترتیب رکھی ہوئی ہیں کتابیں ٹیبل پر اور کرسیوں پر رکھی ہوئی ہیں جوتے کمرے کے درمیان میں پڑھے ہوئے ہیں اور بستر یہاں کا وہاں جا رہا ہے میں جلدی سے اٹھا اور باہر کی طرف بھاگا یہ سوچ کر سب کھانے کی ٹیبل پر انتظار کر رہیں ہونگے لیکن جب دروازے سے باہر نکلا تو سامنے دیکھتا ہوں چھوٹے بھائی کا کمرہ بند ہے اس کا مطلب ہو ابھی تک سو رہا ہے باورچی خانے سے آمّی جی کی آواز آئی جلدی غسل کر کے آو ناشتہ تیار ہے میں نے پوچھا باقی سب کہاں ہے تو بولی وہ سب تو اپنے ٹیم پر اٹھے گے نا

زمرہ : Uncategorized | 4 تبصرے »

یہ سو روپے کی لات ہے۔

مصنف : phototech81 :: بتاریخ 20 Jul 2008

اس کی آواز میں ایک دکھ کی سی کیفیت تھی۔ جو سب لوگوں کو اپنی طرف متوجو کر دیتی تھی۔ اب یہی وجہ تھی میری نظر بھی اس پر پڑھی اور جب میں نے اس کو دیکھ تو میرا دل ایک دم سے اداس ہو گیا کیوں کے وہ ایک خوبصورت نوجوان تھا لیکن آنکھوں سے نابینا تھا اور لوگوں سے فریاد کر رہا تھا سب لوگ اس کو کچھ نا کچھ دے رہے تھے ۔ میرا دل نے بھی چاہا اور میں اسی گرز سے اس کے پاس چلا گیا ۔ میں نے اس کو اپنی جیب سے 100 روپے نکال کر دے اور اس کو حوصلہ دیتا ہوا چلا گیا ابھی میں گھر بھی نہیں پونچا تھا کہ دوستوں کا فون آ گیا ”شام کا کیا پروگرام ہے“ میں نے پوچھا کس قسم کا پروگرام۔ شام کو کہی جانا تو نہیں ہے نا ۔ نہیں۔ تو ٹھیک ہے شام کو سیروز پر فلم دیکھنے جانا ہے ۔کچھ سوچنے کے بعد چلو ٹھیک ہے
شام ہوئی سب دوست فلم دیکھنے کے لیے چلے گے۔سیروز کے باہر ہی ایک آدمی کسی لڑکے کو مار رہا تھا اور باقی سب لوگ اس کے پاس کھڑے تھے۔ سب دوستوں نے سوچا جا کر دیکھتے ہیں کیا ماجرا ہے ۔ جب پاس گے تو کیا دیکھا یہ وہی لڑا تھا جس کو اس نے 100 روپیہ دیا تھا۔ اس آدمی سے پوچھا ارے بھائی اس کو کیوں مار رہے ہو یہ تو بانینا ہے۔ وہ آدمی بولا اسی لے تو اس کو مار رہا ہوں۔ ابھی ایک گھنٹہ پہلے یہ ایم ایچ کے سامجھے لوگوں سے مانگ رہا تھا میں اس کے پاس گیا اور اس کو ایک ہزار روپے دے اور کہا بیٹا آپ مانگا نا کرو میں آپ کو ہر مہنے پورے مہنے کا خرچہ دے دیا کروں گا ۔ اس نے خوشی خوشی مجھ سے ایک ہزار روپے لیے اور چل دیا میں نے پوچھا کہاں جا رہے ہو کہنے لگا گھر ۔ بہت مشکل سے سڑک کراس کی اور اداکاری کرتے ہوے چلتا رہا میں اس کو سچ کا نابینا سمجھتا رہا ۔ اور اس کے پیچھے چل پڑا اس گرز سے کے اس کا گھر دیکھ لوں اور ہر مہنے اس کو خرچ دے دیا کروں گا جب یہ تھوڑا سا دور گیا تو اس کی چال میں فرق آ گیا اور یہ ٹھیک سے چلنے لگا اور یہاں پونچ کر فلم کا ٹکٹ لینے کے لیے لائن میں کھڑا ہو گیا جب اس نے ٹکٹ لے لیا تو پھر میں نے اس کو پکڑ لیا اور مارنا شروع کر دیا اس کی وجہ سے پتہ نہیں کتنے لوگوں کا حق مارا جاتا ہو گا ۔ یہ ساری بات سن کر اس نے بھی ایک لات اس کے پیٹ میں دے ماری اور کہا یہ سو روپے کی لات ہے۔

زمرہ : Uncategorized | 3 تبصرے »

کیا یہ دوست ہے

مصنف : phototech81 :: بتاریخ 15 Jul 2008

مجھے اس کی بات سن کر نا تو غصہ آیا اور نا ہی حیرت ہوئی۔ کیونکہ میں‌اس سے پہلے بھی کہی دفعہ ایسی باتیں سن چکا تھا وہ ہمشہ میرے بارے میں لوگوں کو یہی بتاتا تھا کہ یہ بہت خود گرز ہے اور اپنے سوا کسی کو حاطر میں نہیں‌لاتا ہے۔ کسی کی بات نہیں‌سنتا اور نا ہی کسی کو اہمیت دیتا ہے۔خیر یہ تو میرے ساتھ ہر دفعہ ہی ہوتا آیا ہے۔ اس کے باوجود بھی وہ میرے پاس بیٹھ گیا اور کہنے لگا
بھائی کیا آپ ایسے ہی ہے جیسا آپ کا دوست آپ کے بارے میں کہتا ہے۔
کیا کوئی اپنے آپ کو بُرا کہہ سکتا ہے
نہیں
تو کیا کہتے ہو میں‌خود کو بُرا کہوں گا
نہیں
تو پھر پوچھنے کیا وجہ
آپ کا دوست جو آپ کے بارے میں ایسا کہتا ہے
ارے بھائی کیا کوئی دوست اپنے دوست کی بُرائی کرے گا کیا اس کی غلطیاں دوسروں کا بتائے گا
اچھا دوست تو کبھی نہیں بتائے گا
تو پھر وہ میرا دوست ہو سکتا ہے کیا
وہ خاموش ہو کر میری طرف دیکھنے لگا
چھوٹے بھائی بات کچھ بھی نہیں‌ہوتی لیکن لوگ اس کو بڑا چڑا کر بیان کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے بہت ساری غلط فہمی پیدا ہو جاتی ہے ایک بات یاد رکھو جب بھی کوئی بات کہہ تو زیادہ یہ کوشش کیا کروں اس بارے میں تحقیق کر لیا کرو تانکہ کبھی کوئی غلط فیصلہ نا کر سکو ۔ میرا دوست جو باتیں میرے بارے میں کہتا ہے ممکن ہے ، ممکن نہیں بلکے حقیقت میں‌یہ سچ ہی ہونگی کیوں‌کے اس نے کچھ نا کچھ مجھ میں‌دیکھا ہو گا تو اس نے میرے بارے میں ایسی رائے دی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ مجھے ان سب بُرائیوں سے دور کرے جو میرے دوست نے مجھ میں دیکھی ہیں۔

زمرہ : Uncategorized | 2 تبصرے »

”میں“ اور ”میں“

مصنف : phototech81 :: بتاریخ 28 Jun 2008

لفظ ”میں“ میرے خیال انسان کے اندر غرور کا ایک پہاڑ ہے جس کا گیرنا بہت مشکل ہے اور اگر یہ پہاڑ گیر جائے تو انسان کامیاب زندگی گزار سکتا ہے ہمارے معاشرے میں بہت کم لوگ ایسے ملے گے جن کے اندر ”میں“ نہیں ہو گی اس کے علاوہ ہر طرف ”میں“ ہی ”میں“ نظر آتی ہے ”میں اگر تمہارا ساتھ نا دیتا تو تم ہار چکے ہوتے“ ، ”میں سوچتا ہوں اگر میں نا ہوتا تو اس ادارے کا کیا بنتا“ ، ”یہ سب میری زہانت کا ہی کمال ہے جو آج میں کامیاب ہو“ میں ”میں“ کے دو مطلب لیتا ہوں ایک تو اُوپر بیان کر چکا ہوں کہ ”جو کچھ ہو میں ہی ہوں میرے سوا کچھ نہیں ہو سکتا ہے“
اور ”میں“ کا دوسرا مطلب تھوڑا سا مختلف ہے کچھ لوگ خود کو شریف ، نیک ، عقلمند وغیرہ وغیرہ ثابت کرنے کے لیے ”میں“ کو استعمال کرتے ہیں مثلاََ ”میں تو ملنگ ہوں مجھے کیا پتہ “ ”ارے بھائی ہم فقیروں کا زمانے سے کیا لینا دینا“
میرے خیال میں ہر انسان کے اندر کہی نا کہی ”میں“ ضرور ہوتی ہے اب ہمیں یہ بات سمجھ نہیں آتی ”میں“ کس مطلب میں لیاجا رہا ہے ہر انسان تو ”میں“ کو اس طرح استعمال نہیں کرتا جس طرح میں سوچ رہا ہوں کچھ لوگو کی نیت تو صاف ہوتی ہے لیکن اس بات کا اندازہ کیسے لگایا جا سکتا ہے کہ ”میں“ کو بطورِ کس معنی میں لیا جا رہا ہے تو ایسا دیکھنے کے لیے یا تو یا تو انسان کے دل کے اندر جا نا پڑھے گا یا پھر اس کا لہجہ دیکھنا پڑھے کا بہت سارے لوگوں کے لہجے سے پتہ نہیں چلتا لیکن پھر بھی میں یہ کہتا ہوں جب بھی ہم ”میں“ کا استعمال کرے تو بہت سوچ سمجھ کر

خرم شہزاد خرم

زمرہ : Uncategorized | 2 تبصرے »

شیخ صاحب

مصنف : phototech81 :: بتاریخ 28 Jun 2008

یہ تو شیخ صاحب کی مہربانی تھی کہ وہ مجھ جیسے بے کار کو اپنے باس بیٹھنے دیتے تھے۔ گفتگو میں اتنا کمال تھاکہ بات شروع کر دے تو بات ختم کرنے کو لفظ ہی نہیں ملتے تھے بات کو کہی سے کہی لے جاتے جس کی وجہ سے سننے والوں پر ایک ایسا تاثر پڑھتا جو بیان سے بھی باہر ہے دل سے شیخ صاحب کے لیے ہا نکلتی۔دنیا کاکوئی ایسا کام نہیں جو شیخ صاحب نے نا کیا ہو یا نا آتا ہو۔ ہر کام کے ماہر تھے شیخ۔ ایک دن میرا کمپوٹر خراب ہو گیا مسئلہ کچھ یہ تھا جو میرے سمجھ سے باہر تھا۔(لیکن بعد میں پتہ چلامسئلہ کچھ بھی نہیں‌ تھا) صرف نیٹ نہیں‌ چلتا تھا۔ میں کوشش میں لگا ہوا تھا تو اچانک شیخ صاحب کہی سے آ نکلے۔ نا چاہتے ہوئے بھی چائے بنوانی پڑھی۔ کمپوٹر کو دیکھ کر بولے ۔محترم آپ کیا کر رہے تھے کمپوٹر پر۔ میں نے کہا شیخ صاحب نیٹ نہیں چل رہا اس کو ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ بس اتنا بتانا تھا کے شیخ صاحب اٹھ کر کمپوٹر کے پاس آ گے اور کہنے لگے یہ تو کوئی مسئلہ نہیں ایک منٹ میں‌حل ہو جائے گا ۔ میں نے بہت کوشش کی شیخ صاحب کو روکنے کی لیکن شیخ صاحب تو کمپوٹر میں‌اتنے ماہر تھے کے روکنے سے بھی نا روکے اور کمپوٹر کو کھولنا شروع کر دیا ۔ بس پھر کیا تھا شیخ صاحب نے وہ کمال دیکھایا کہ بس کمپوٹر صاحب دنیا کو خدا حافظ کہہ دیتے اگر بجلی نا چلی جاتی۔ بجلی گی تو میں نے اور کمپوٹر دونوں نے واپٹا والوں کا شکریہ ادا کیا۔ اللہ ان کو خوش رکھے۔
یہ تو کچھ بھی نہیں‌شیخ صاحب کے بہت سے ایسے کارنامے ہیں‌جو اگر میں بیان کرنا شروع کر دوں تو دن گزرتے جائے لیکن شیخ صاحب کے کارنامے ختم ناہو۔ شیخ صاحب کے سامنے کوئی بھی بات کرو شیخ صاحب کا ایک ہی جواب ہوتا۔”میں جانتا ہوں“ یا پھر ”مجھے پتا تھا“ میرے مطابق دنیا کی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کا شیخ صاحب کو پتہ نا ہو ۔ایک دن ان کے ایک دوست نے شیخ صاحب کو فون کیا اور تنگ کرنا شروع کر دیا ۔ شیخ صاحب اپنے دوست کو پیچھان نہیں‌سکھے اس لے ان کا پارہ چڑ گیا ۔ اور غصہ میں‌اپنے دوست کو اچھی اچھی باتیں کہنا شروع کر دی۔ جو میں یہاں بیان کروں تو آپ کی طرف سے اور زیادہ اچھی اچھی باتیں مجھے سننے کو ملے۔ پھر کیا تھا دوست نے دیکھا جب شیخ صاحب بہت زیادہ گرم ہو گے ہیں اب ان کو بتا ہی دینا چاہے۔ تو بولے جناب شیخ صاحب کیوں غصہ کر رہے ہیں میں‌ہوں میاں نوید۔ اس پر شیخ صاحب نے بہت آرام سے کہا جی جی مجھے پتہ تھا آپ ہی ہونگے اس لے میں غصہ دیکھا رہا تھا ۔

زمرہ : Uncategorized | 4 تبصرے »

ٹيگ

مصنف : phototech81 :: بتاریخ 19 Jun 2008

جہانزیب کا شروع کردہ سلسلہ ‘ٹیگ کھیل’
مجھے تو جناب الف نظامی صاحب ،محترمہ شاہدہ آپی اور محترمہ حجاب آپی نے ٹیگ کیا ہے جو حاضر ہیں

1) اِس وقت آپ نے کِس رنگ کی جرابیں پہنی ہوئی ہیں؟

جرابیں نہیں پہنی ہوئیں۔

2) کیا آپ اس وقت کچھ سُن رہنے ہیں؟ اگر ہاں تو کیا؟

میرے قریب میرے آفس کے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اور انگلش میں کچھ گور گور کر رہے ہیں
3) سب سے آخری چیز جو آپ نے کھائی تھی کیا تھی؟

میں نے برفی کا چوتھائی حصہ کھایا تھا وہ بھی اپنے دوست سے چھین کر

4) سب سے آخری فلم کونسی دیکھی ہے؟

کافی عرصہ ہوا فلم نہیں دیکھی

5) آپ کا پسندیدہ قول کیا ہے؟
کسی کی پرشانی کو دیکھ کر اپنی پرشانی کا نا سوچوں بلکے اس کی پرشانی دور کرنے کا سوچو

6) کل رات بارہ بجے آپ کیا کر رہے تھے؟

کل رات بارش ہو رہی تھی اور میں اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر کا نظارہ کر رہا تھا بہت خوب بارش تھی باقی سب سورہے تھے

7) کِس مشہور شخصیت زندہ یا مردہ سے آپ مِلنا چاہیں گے؟
حضرت غالب صاحب اور حضرت علامہ اقبال صاحب سے

8 ) غصہ میں اپنے آپ کو پرسکون کِس طرح کرتے ہیں؟

گھر سے نکل جاتا ہوں یا سو جاتا ہوں ویسے اگر کسی نے ناراض ہوتا ہوں تو کھانا زیادہ کھاتا ہوں خاص طور پر گھر والوں میں سی کسی سے ناراض ہوں تو

9) فون پر سب سے آخر میں کِس سے بات ہوئی؟
الف نظامی صاحب سے کل شام کو پانچ اور چھ بجے کے درمیاں اسے کے بعد ابھی تک کوئی فون نہیں‌آیا

10) آپ کا پسندیدہ تہوار کونسا ہے؟
عید ، عید اور پھر عید
میں ان احباب کو ٹیگ کرتا ہوں

زینب آپی ، شکاری بھائی ، راشد کامران ، رضوان اور زکریا جی کو

زمرہ : Uncategorized | 9 تبصرے »

محبت میں مسافت کی نزاکت مار دیتی ہے

مصنف : phototech81 :: بتاریخ 04 Jun 2008

محبت میں مسافت کی نزاکت مار دیتی ہے
یہاں پر ایک ساعت کی حماقت مار دیتی ہے

محبت کے سفر میں ثالثی سے بچ کے رہنا تم
کہ اس راہِ محبت میں شراکت مار دیتی ہے

غلط ہے یہ گماں تیرا کوئی تجھ پر فدا ہو گا
کسی پر کون مرتا ہے ضرورت مار دیتی ہے

ہمارے ساتھ چلنا ہے تو منزل تک چلو ہم دم
ادھورے راستوں کی یہ رفاقت مار دیتی ہے

میں حق پر ہوں مگر میری گواہی کون دیتا ہے
کہ دنیا کی عدالت میں صداقت مار دیتی ہے

سرِ محفل جو بولوں تو زمانے کو کھٹکتا ہوں
رہوں میں‌چُپ تو اندر کی بغاوت مار دیتی ہے

رہوں گھر میں تو مجھ پر طنز کرتا ہے ضمیر اپنا
اگر سڑکوں پہ نکلوں تو حکومت مار دیتی ہے

نہیں تھے پر بہت کچھ تھے ہم اپنی خوش گمانی میں
فسانوں میں جیئیں لیکن حقیقت مار دیتی ہے

کسی کی بے نیازی پر زمانہ جان دیتا ہے
کسی کو چاہے جانے کی یہ حسرت مار دیتی ہے

سرِ بازار ہر اک شے مجھے انمول لگتی ہے
اگر میں بھاؤ پوچھون بھی تو قیمت مار دیتی ہے

زمانے سے اُلجھنا بھی نہیں اچھا مگر زلفی
یہاں حد سے زیادہ بھی شرافت مار دیتی ہے

استادِ محترم ذوالفقار علی زلفی صاحب کی کتاب دشتِ امکاں سے انتخاب

زمرہ : Uncategorized | 5 تبصرے »